ہم جنس پرستی
چند سال قبل دنیا میں پہلی مرتبہ کسی ملک نے ہم جنس پرستی کے بارے میں عوامی آراء معلوم کرنے کیلئے ریفرنڈم کروایا اور لوگوں نے فیصلہ ہم جنس پرستی کے حق میں دیا۔ یہ ’اعزاز‘ سوئٹزر لینڈ کی حکومت اور عوام کو حاصل ہوا۔ ہالینڈ اور بیلجیئم میں پہلے ہی ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اب سپین کی پارلیمنٹ نے بھی ہم جنسوں کی شادی کی اجازت دے دی ہے، امریکہ کی ایک ریاست میں بھی ہم جنسوں کو عدالت کی طرف سے باقاعدہ شادی کی اجازت مل چکی ہے۔ ( خبر)
.......
اگر میڈیکل سائنس کی روشنی میں جنسی رویوں کا مطالعہ کیا جائے تو کچھ اصطلاحات نظر سے گزریں گی۔ Homosexuality(ہم جنس پرستی)، Gender Identity Disorder(اپنی جنسی شناخت میں ابہام ہونا)، Transsexualism(اپنےآپ کو صنفِ مخالف سمجھنا)، Transvestic Fetishism(جنسِ مخالف کے کپڑے پہننا)، Androphobia(مردوں سے نفرت)، Gemophobia(شادی سے شدید نفرت)، Pedophilia(بچوں سے جنسی لذت حاصل کرنا)، Exhibitionism(دوسروں کو اپنے جنسی اعضا دکھانا)، Voyeurism(جنسی افعال دیکھنا)، Sexual Masochism(جنسی تشدد)، وغیرہ۔
میڈیکل سائنس کی رو سے یہ تمام دماغی امراض ہیں اور ان کی تشخیص و علاج سائیکاٹری (دماغی امراض کاعلم) کی مد میں آتے ہیں۔ کسی بھی جاندار میں جنسی اعضا افزائش نسل کیلئے ہوتے ہیں۔ انسان اور جانوروں کو چھوڑیے پودوں میں بھی یہ عمل صرف جنس مخالف کے مابین اور صرف افزائشِ نسل کیلئے ہی ہوتا ہے۔ ابھی تک جتنے اقسام کے جاندار دریافت ہو چکے ہیں، ماسوائے(Hermaphrodites) کے جو کہ افزائشِ نسل کیلئے ایک ہی جاندار میں دونوں اصناف کے جنسی اعضا رکھتے ہیں، تمام جاندار صنفِ مخالف سے ہی جنسی اخلاط کرتے ہیں۔
مگر انسان جو کہ اشرف المخلوقات ہے اسی نے اس فعل میں ’جدت‘ پیدا کرنے کیلئے جنسی بلکہ جنونی تسکین کے نت نئے طریقے نکال لیے ہیں۔اور اس جدت نما جنسی جنون
کا صلہ ریکٹل کینسر، ایڈز، سوزاک، آتشک، جنسی امراض اور نہ جانے کس کس شکل میں ملا ہے۔
مگر نہ جانے ترقی اور آزادی کے دلدادہ لوگ کس سمت چل رہے ہیں۔اگر اخلاقی اقدار کو غیر مستقل مان لیا جائے اوراسے معاشرتی تقاضوں پر چھوڑ دیا جائے تو جس طرح آج ہم جنس پرستی غیر اخلاقی افعال کی فہرست سے نکل کر اخلاقی افعال کی فہرست میں شامل ہوتی جارہی ہے اسی طرح ہو سکتا ہے کل کو جھوٹ بولنا، گالی دینا، خونی رشتوں کے درمیان جنسی رشتہ، چوری کرنا، خودکشی کرنا اوراس طرح کے دوسرے غیراخلاقی افعال بھی عین اخلاقی ہوجائیں۔
ہم انسان ہیں اور ہمیں اپنی عظمت کو اس طرح سے پامال ہرگز نہیں کرنا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment