HD

Tuesday, 18 December 2018

آج سے 31 سال قبل وہ شادی سرانجام پائی تھی

18 دسمبر 1987
آج سے 31 سال قبل وہ شادی سرانجام پائی تھی جو پاکستان کو بہت مہنگی پڑی ہے ۔
پہلے اس شادی نے پاکستان کے خزانے کو کھایا۔پھر دلھن کھا گئی اور آخر میں پاکستان کی پہلی بائیں بازو کی سب سے بڑی قومی جماعت کو کھا گئی ۔
اور نتیجہ کیا نکلا ۔
ایک بیٹا جو آج بھی اگر ماں کو انصاف دلائے تو یتیم ہو جائے ۔
جی ہاں آج سے 31 سال پہلے آج کے دن بےنظیر بھٹو کی شادی زرداری خاندان کے آصف علی زرداری سے ہوئی تھی ۔

آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی منگنی 29جولائی 1987ء کو لندن میں ہوئی، اس خبر کی دنیا کے تقریباً تمام ہی ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر تشہیر ہوئی۔
نیوز ویک، ٹائم میگزین، گارڈین، واشنگٹن پوسٹ، بی بی سی، امریکن ٹیلی ویژن جیسے سب ہی اداروں نے اس خبر کو ہاتھوں ہاتھ لیا، آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کا رشتہ آصف زرداری کی والدہ ٹمی بخاری اور بینظیر بھٹو کی والدہ نصرت بھٹو نے طے کیا۔

منگنی کی تقریب لندن میں بینظیر بھٹو کی بہن صنم بھٹو کے فلیٹ میں ہوئی، منگنی کے تقریباً پانچ ماہ بعد 18دسمبر 1987ءکو آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی یادگار شادی کراچی میں ہوئی، نکاح اور شادی کا عوامی استقبالیہ لیاری کے ککری گراؤنڈ میں ہوا جہاں دولہا دلہن کے قریبی رشتے داروں کے علاوہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

دلہن بینظیر بھٹو نے سونے کی کڑھائی والا سفید رنگ کا جوڑا پہنا جبکہ آصف زرداری نے کریم کلر کا کرتا شلوار اور سر پر روایتی بلوچی پگڑی پہنی تھی۔آصف زرداری نے بینظیر بھٹو کو دل کے نشان والی انگوٹھی تحفے میں دی تھی،

آخر میں نواز شریف کے روحانی باپ کا ذکر تو لازمی ہے ۔جی ہاں وہ ہی ضیاء الحق جس کی قبر پر کھڑے ہو کر نواز شریف نے کہا تھا کہ اس کا مشن پورا کروں گا۔

جب بینظیر بھٹو کی شادی کی تاریخ طے ہوئی تو نصرت بھٹو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کردئیے گئے۔ اس وقت نصرت بھٹو نے جنرل ضیاءالحق سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ انکے کہنے پر جنرل ضیاءالحق سے فون پر بات کرائی گئی تو نصرت بھٹو نے انتہائی حوصلہ اور شاندار لہجے میں بات کرتے ہوئے جنرل ضیاءسے کہا کہ ”بیٹیاں سب کی برابر ہوتی ہیں، میری بیٹی کی شادی پر تم نے جو تحفہ بھیجا ہے وہ مجھے مل گیا“ اسکے بعد انہوں نے فون بند کردیا...!

Yes. And our bad luck. The marriage ceremony of Asif Ali Zardari and BB Shaheed took place at UBL head office. The organiser was Aziz Memon. The President of labour union.
Result was that Nawaz Sharif dismissed 5416 employees of United Bank  in 1997 including me.
To whom we weep. We will help us.
We are seeking help of Allah.
Allah will help us.
Bilawal can neither find killers of BB Shaheed nor compensate UBL terminated employees.
What a weak man he is !

No comments:

Post a Comment