جوانِ رعنا قتل ہو رہے ہیں ...ہمارے گھر جل رہے ہیں ۔
پختون نیست و نابود ہو رہے ہیں؟ یہ کیسی آزادی ہے ؟
اسلام آباد دھرنے میں پشتو کے نامور گلوکار شوکت عزیز کی دردناک آوازگونجتی ہے تو وہاں بیٹھے نوجوانوں کی آنکھوں میں نقیب اللہ
محسود کی موت اور وزیرستان کی بربادی کے مناظر گردش کرنے لگتے ہیں۔ راولپنڈی، آبپارہ یا اسلام آباد کے بااختیار لوگ شاید کسی
مغالطے میں ہیں ،وہ اس دھرنے کو ایک روایتی احتجاج سمجھ رہے ہیں جو ان کے خیال میں نمائشی نوعیت کے چند اقدامات اور رسمی یقین
دہانیوں پر مشتمل اعلانات سے جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گامگر صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین اور گھمبیرہے۔نقیب اللہ محسود کا ناحق
قتل تو اونٹ کی کمرپر وہ آخری تنکا ثابت ہوا جس کے بعد ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے...
مگر پشتونوں اور بالخصوص قبائلی علاقوں کے
مکینوں میں مسلسل جبر کے خلاف لاوا کئی سال سے دہک رہا تھااور اب ہم آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں۔نقیب اللہ محسود ہو یا رائو
انوار ،یہ دو افراد نہیں ہیں ،دو کردار ہیں جو مظلوم اور ظالم کی نمائندگی کرتے ہیں جس طرح تاریک راہوں میں مارے جا رہے نقیب اللہ
محسود بیشمار ہیں اسی طرح جبرِمسلسل کے قائل رائو انوار بھی ان گنت ہیں۔میں نے دھرنے میں بیٹھے کئی پشتون نوجوانوںکا ذہن پڑھنے
کی کوشش کی کہ آیا وہ بھی سادہ لوح عوام کی طرح یہی سمجھتے ہیں..
کہ رائو انوارکا سرپرست محض کوئی سیاستدان یا پھر کوئی سرمایہ
دارہے اس لئے اسے قانون کی گرفت میں نہیں لایا جا سکا؟ حیرت انگیز طور پر یہ نوجوان یکسو دکھائی دیئے کہ رائو انوار کے رسہ گیر
سابق آمر اور ان کے ساتھی ہیں ۔ رائو انواروں کی پرورش کرنے والوںکی سوچ کو ایک جملےکے کوزے میں بند کرنا مقصودہو تو یوں
سمجھئے ’’بنائو، استعمال کرو اور پھینک دو ‘‘۔ دو قسم کے رائو ا نوار پائے جاتے ہیں یہاں ،ایک وہ جولوگوں کے ہاتھوں میں بندوق تھماتے
ہیں اور انہیں تذویراتی گہرائی کی احمقانہ پالیسی کے تحت دہشتگرد بناتے ہیں
مگرجب یہ پَر پرزے نکالنے لگتے ہیں تو دوسری قسم کے
رائو انوار انہیں ٹھکانے لگا کر ’’انکائونٹر اسپیشلسٹ ‘‘ بن جاتے ہیں۔محاورہ تو یہ ہے کہ گیہوںکے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے مگر یہاں کمال
مہارت سے گندم کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر لیا جاتا ہے ’’اچھی گندم ‘‘ اور ’’بُری گندم‘‘۔طرفہ تماشا یہ ہے
No comments:
Post a Comment