پاکستان یا اسلام کو جتنا نقصان اس ملعونہ عاصمہ جہانگیر نے پہنچایا
پاکستان یا اسلام کو جتنا نقصان اس ملعونہ عاصمہ جہانگیر نے پہنچایا اتنا نقصان شاید ہی تاریخ میں کسی اور نے پہنچایا ہو یقیناََ آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کیونکہ اسکی بات میں اور فیس بکی ہزاروں لُنڈے کے لبرلز کی بات میں فرق تھا ہزاروں لنڈے کے شر پسند لبرلز کو امت مسلمہ کے مجاھدین اسی فیک بک کے پلیٹ فارم کر انکے اس شدید فتنے کو روندتے چلے گئے ..
دنیا کے بہت سارے ممالک میں دہریے لبرلز کامیاب ہوئے اور پورے ملک اس فتنے کا شکار ہوگئے مگر جب باری اسلام اور پاکستان کی آئی تو امت مسلمہ کے مجاھدین نے انھیں نہ صرف ٹف ٹائم دیا ..
بلکہ انھیں ہر میدان میں زلتوں سے انکی تواضح کی افسوس ایک مقام پر ہمارے مجاھدین کی عدم توجہ نے عاصمہ ملعونہ جیسی سانپ کی بچی کو اپنا زہر پھیلانے کا موقع ملا جسے اس نے بھرپور طریقے سے کیش کیا اور وہ مقام تھا صحافت کا جہاں دجالی میڈیا کے سبب امت مسلمہ کے مجاھدین وہ اثر نہ دکھا سکے جسکی ضرورت تھی
اس ملعونہ کے پاس ایسی سیٹ موجود تھی جسکی بدولت اس نے پورے پاکستان میں لبرلزم کو فروغ دیا جو بات کوئی چھپ کر کہنے سے ڈرتا تجا وہی بے حیائی اور برائی کے کام سرعام کروائے گئے 
اسلام کے جن عقائد پر امت مسلمہ کا جوش کے ساتھ کھڑی ہو جاتی افسوس اس سانپ کی بچی نے میٹھے زہر کی طرح امت مسلمہ میں شامل کرنے کی کوشش کی اس کوشش میں ملعونہ کافی مرتبہ اسلامی شعائر کو اپنی تنقید کا نشانہ بھی بنا چکی تھی یہاں تک کہ امت مسلمہ کی جان ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کچھ بکواسات بھی منظر عام پر آئے.
جن پر اس ملعونہ کے خلاف تحریک بھی چلی اس ملعونہ نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہر محاذ پر امت مسلمہ کی ہردل عزیز پاک فوج کے خلاف اپنی زبان کو ہمیشہ بے لگام رکھا اس سانپ کی بچی کا یہ رویہ اس نے اپنے غدار باپ سے حاصل کیا..
جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو الگ کروانے میں اہم کردار ادا کیا اس ملعونہ کے ملعون باپ غلام جیلانی نے اندرا گاندھی کو تین خط لکھنے کے بعد چوڑیاں بھیج کر کہا کہ اب یا پاکستان پر حملہ کردو ..
یا چوڑیاں پہن لو
اگر یہ ملعونہ اس اہم سیٹ پر موجود نہ ہوتی تو اسلامی قانون کے نفاز کے خلاف تحریک نہ چلاتی عورتوں کے حقوق کی آڑ میں دو عورتوں کی گواہی ایک مردکے برابر کے قانون پر یہ خبیثہ سڑکوں پر احتجاج نہ کرتی پھرتی اگر یہ بے غیرت ملعونہ کو یہ اعلی منسب نہ ملا ہوتا ..
تو یہ نیویارک ٹائمز کو خط لکھ کر پاکستان کو بدنام نہ کرتی یہ گلی گلی محلے محلے شہر شہر ملک ملک اس بات کے نعرے نہ لگاتی کہ پاکستان میں زبردستی اسلام پر لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے جسکا اثر اس ملعونہ کے مالک و آقا بال ٹھاکرے نے فورا قبول کرکے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی تحریک چلائی اس ملعونہ کو اگر دجالی میڈیا میں صحافت جیسی اہم پوسٹ نہ ملتی تو یہ خبیثہ پاکستان کے بنائے گئے ایک قانون کے خلاف تحریک چلا کر ..
اس قانون کو ختم نہ کرواتی جس میں لڑکی بھاگ کر شادی نہیں کرسکتی تھی نیز ایسے بہت ساری باتیں ہیں جنکی بدولت یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ ملعونہ پاک فوج پاکستان اور اسلام کے لیے کتنی خطرناک تھی سوچیں جو اعلانیہ لبرلزم کو فروغ دینے میں مشہور تھی اس نے اسلام کو پس پردہ کتنا نقصان پہنچایا ہوگا میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس دور کے ہر لُنڈے لبرل کے پیچھے اسی ملعونہ کی سوچ کارفرما تھی ایسے ہی دوسری قسم کے لوگ ہوتے ہیں ..
جنکے مرنے پر دنیا کی ہر چیز خوش ہوتی ہے اور یہ حدیث کا مفہوم ہے خدارا اس ملعونہ کے مگرو لے جانے پر اگر آپکو دکھ ہے تو اپنے ایمان کا جائزہ لو اگر ہمدردی ہے اسلامی تعلیمات کو پڑھو اگر اس ملعونہ کو برا کہنا آپکو اچھا نہیں لگ رہا تو کم از کم کسی کو اس خبیثہ کے مرجانے پر خوشی منانے سے روک کر امت مسلمہ کے جزبات کو ٹھیس مت پہنچاؤ اللہ پاک کی ذات ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے تحریر : لئیق احمد دانش
No comments:
Post a Comment