HD

Tuesday, 20 February 2018

دانشور نے ایک گہرا سانس لیا

شہرت کے شارٹ کٹ*
دانشور نے ایک گہرا سانس لیا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ’ میاں تم تم آخر چاهتے کیا هو ؟میں نے کہا ’ کیا آپ کو واقعی علمِ عروض آتا ہے ؟ ’ دانشور نے چھت کو گھورتے ہوئے کہا ' ہاں میں نے جوانی میں سیکھا تھا' میں نے عرض کیا ' کیا آپ مجھے یہ علم سکھا سکتے ہیں ؟' دانشور نے پھر میری طرف غور سے دیکھا اور پوچھا' تم سیکھ کر کیا کروگے؟' میں نے عرض کیا' میں شاعری کروں گا' دانشور بہت زور سے ہنسا، جب ہنسی میں اک وقفہ آیا تو گویا ہوا' شاعری کر کےکیا کروگے' 'میں مشاعرے پڑھوں گا، رسالوں ، کتابوں ، اخباروں میں میرا کلام، میرا نام چھپے گا' میں نے جواب دیا ’ اس سے کیا ہوگا؟ ’ وہ مسکرایا ’ میں مشہور ہوجاؤنگا، ہر جگہ میری شہرت ہوگی ’ میں نے سادگی سے کہا اس نے تڑپ کر میری طرف دیکھا اور بولا ’ گویا تمہیں شاعری سے نہیں، نام اور شہرت سے دلچسپی ہے ’ میں خاموش رہا اس نے مجھے تقریبآ جھنجھوڑتے ہوئے پوچھا ’..
 کیا تم دراصل شہرت اور نام کمانا چاہتے ہو؟ ’ میں کنفیوز ہوگیا۔ میں دنیا کے ہر نوجوان کی طرح کسی نہ کسی طرح مشہور ہونا چاہتا تھا اور شاعری کو اس کا ایک ذریعہ سمجھتا تھا۔ میں نے اسی کنفیوزن میں ہاں میں سر ہلادیا دانشور نے سگار سلگاتے ہوئے کہا ’ میاں کیوں نہ میں تمہیں شاعری کے اسرار و رموز سکھانے کے بجائےشہرت حاصل کرنے کے گُر، وہ بھی شارٹ کٹ میں بتاؤں ؟ ’ میری تو جیسے دلی مراد بر آئی۔ میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ بولا ’ انسان جب تک بغیر منصوبہ بندی کے شہرت کے پیچھے بھاگتا ہے، شہرت اس سے دور بھاگتی ہے، تمہارے کتنے فیس بک اکاؤنٹس ہیں میرا مطلب کتنی آئی ڈیز ہیں ؟ ’ ’ جی۔۔۔ بس ایک وہ بھی میرے اپنے نام میں۔۔۔ ’ میں نے
حیرت زدہ لہجے میں کہا۔دانشور نے زور دار قہقہہ لگایا اور کہا ۔۔۔‘
اناڑی ہو ابھی۔۔ تمارے کم سے کم آدھی درجن فیس بک اکاؤنٹس ہونا چاہئے۔ ان میں سے چار نسوانی ناموں سے جیسے ماہ لقا صہبائی، گلفشاں اصفہانی اور ایک دو پھڑکتے ہوئے سے جدید نام۔ ایک تمہارا اکاؤنٹ تو ہے ہی ایک اور کوئی بھاری بھرکم نام جیسے ذوالقرنین بلقانی ۔‘ ’ جی اچھا۔۔ ’ میں ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا’ تم اپنی شاعری کو دیدہ زیب تصویر کے فریم میں جڑو اور اپنا نام موٹے موٹے حروف میں اس پر لکھو۔۔ کیا نام ہتایا تھا تم نے؟؟ ’ ’ جی۔ فیروز شاہ ’ میں نے عاجزی سے کہا’ ارے میاں اس نام کا شاعر نہیں چلنے والا۔۔۔ کوئی تخلص وخلص؟؟‘ اس کے لہجے میں تیزی تھی’جی۔۔ ابھی تو کوئی نہیں‘ میرے لہجے میں شرمندگی تھی’ رہتے کہاں ہو؟‘ وہ سگار کا دھواں میرے چہرے کے پاس چھوڑتا ہوا بولا’..
جی۔۔۔ وہ ناظم آباد ’ ’ ہووووں ں ں‘ ۔۔۔ وہ اگلا کش لیتے ہوئے بولا ۔ ’ بس تم ہوگئے ف۔ ش۔ ناظمی‘’مگر وہ آپ نے جو کہا کہ اپنی شاعری کو دیدہ زیب فریم میں۔۔ تو مجھے تو شاعری آتی نہیں ۔۔‘ میرے لہجے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ ’اسی لئےتو حاضر ہوا تھا آپ کی خدمت میں‘’شاعری نہیں آتی ۔۔۔ تو کیا ہوا؟۔۔ ’ وہ مسکرا رہا تھا ’ تمہارے خیال میں فیس بک پر دھومیں مچانےوالے، ہزار ہزار لائک، پانچ پانچ سو کمنٹس لینے اور درجنوں شئیر ہونے والوں کو آتی ہے شاعری؟‘تو میں کیا لکھوں؟؟ میرے لہجے میں تجسس تھادانشور نے ایک اور قہقہہ لگایا، سگار کا ایک لمبا کش لیا اور بولا ’ میاں یہ گوگل بڑے کام کی چیز ہے۔۔ کسی بھی زبان ، فارسی، چینی، لاطینی، ہسپانوی، اطالوی وغیرہ کے شاعر کا کلام گوگل پر تلاش کرو۔ کاپی کرکے گوگل ٹرانسلیٹ میں پیسٹ کرو اور اردو ترجمہ کے لئے کلک۔۔ بس تمہاری نظم تیار،عروض اور وزن کی پروا نہ کرنا،
 یہ جدید شاعری ہے، بالکل آزاد ’ وہ ذرا دیر کو رکا اور پھر گویا ہوا ’اسے کسی گل اندام حسینہ کی تصویر پر ، جو جھیل کے کنارے گلاب کا پھول ہاتھ میں لئے بیٹھی ابھرتے ہوئے ماہتاب اور جاتی ہوئی کشتی کو دیکھ رہی ہو ، کسی خوبصورت فونٹ میں پیسٹ کرو۔ میرا تجسس بڑھتا جارہا تھا اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا وہ بولا۔۔ ’ اور ہاں کبھی اسے خود سے پوسٹ کرنے کی غلطی نہ کرنا۔۔‘ ’ اچھا !!! پھر؟؟؟ ’میرا اشتیاق اور بڑھ گیایہ جو ماہ لقا اور گلفشاں کی آئی ڈیز بنائی ہیں وہ کس لئے ہیں۔ ان میں سے کسی کے نام سے فیس بک پر پوسٹ لگاؤ جس پر لکھا ہو۔ ”معروف ادیب، صحافی،افسانہ نگار، اینکر پرسن اور شاعر جناب ف۔ش۔ناظمی کے کلام سے ایک انتخاب“پوسٹ لگانے کے بعد منٹوں میں باقی تین چار ناموں والوں آئیڈیز سے لائکس، داد و تحسین کے ڈونگرے اور پوسٹ کو شئیر کرو۔ ہر کمنٹ کے بعد اپنے نام سے کمنٹ کرنے والے کا تہہ دل سے شکریہ۔ پھر دیکھو جو بھیڑ چال شروع ہوگی۔ زنانی آئی ڈیز پر فرینڈ ریکوئسٹ کی بھر مار اور تھوڑی ہی دیر میں تمہارے نام میرا مطلب ہے ف۔ ش۔ ناظمی کے نام کا ڈنکا بجنے لگے گا۔ ہر دوسرے دن ایسی ہی ایک نئی پوسٹ، کبھی ماہ لقا اور اور کبھی گلفشان اور کبھی تیسری اور چوتھی آئی ڈیز سے۔ اور یہ جو ذوالقرنین بلقانی والی آئی ڈی ہے اس سے کچھ سنجیدہ تبصرے۔میری کھلتی بانچھیں دیکھ کر دانشور بھی موڈ میں آگیا۔ بجھتے ہوئے سگار کو دوبارہ سلگانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔‘ اب جب کہ تم بحیثیت شاعر اسٹیبلش ہوگئے تو آؤ افسانے کی طرف۔‘افسانہ؟؟
میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں’ہاں افسانہ۔۔ کیوں کیا ہوا؟‘ ’مگر میں نے تو کبھی افسانہ نہیں لکھا‘ بے چارگی میرے لہجے سے ٹپک رہی تھی’ تو تمہارا کیا خیال ہے یہ جو فورمز پر چند ایک کو چھوڑ کر تھوک کے حساب سے لوگ افسانے لکھ رہے ہیں ، انہوں نے کبھی لکھا تھا؟ میں یقین سے کہتا ہوں بہت سوں نے تو پڑھا بھی نہ ہوگا۔ پوچھ لو کسی سے راجندر سنگھ بیدی۔ اوپندر ناتھ اشک، کرشن چندر، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، وحیدہ نسیم، خواجہ احمد عباس وغیرہ وغیرہ کون تھے؟ یہاں تو لوگ بانو قدسیہ اور مستنصر حسین تارڑ کو نہیں جانتے‘ وہ طنزیہ لہجے میں بولا’جانتا تو میں بھی نہیں۔۔ ’ میں نے اعتراف کیاخیر وہی گوگل، وہی گوگل ٹرانسلیٹ۔۔ بس کرداروں کے نام تم اپنی پسند کے دیسی سے رکھ سکتے ہو کچھ موٹے موٹے الفاظ اور نا قابل فہم فلسفے کا تڑکہ ۔ تھوڑا ' مرچ مسالہ' ہوسکے تو اپنی طرف سے لگا دو تاکہ کمنٹس میں یہ آئے کہ ' منٹو کی یاد تازہ ہوگئی'۔ 
ہلے ایک فورم..پر جاؤ ساری آئی ڈیز کا بھرپور استعمال کرو اور پذیرائی کی انتہا کردو,,۔‘,,مگر مجھے تو یہ پزیرائی والے جملے لکھنا نہیں آتے۔ میں منمنایاوہ مسکرایا اور بولا' میاں بہت گھامڑ ہو۔ کسی بھی دوسرے فورم پر کسی افسانے پر کئے گئے توصیفی جملے اور الفاظ کاپی پیسٹ ہی تو کرنا ہیں۔۔ اگر کوئی سچ مچ کا مبصر کوئی منفی تجزیہ یا تبصرہ کرے تو ذوالقرنین بلقانی کو آگے کردو اور اس کی زبان سے سب ناقدین کو ,,طفل مکتب قرار دلوادو۔ تمہاری گڈی اونچی ہی اڑے گی۔‘ ..میرے دانت خوشی سے کھلنے لگے’ اور ہاں ایک بات دھیان میں رکھنا۔ ایک فورم یا گروپ پر ٹک کے مت رہنا۔۔ زیادہ مشہور ہونے کےلئے کچھ متنازعہ کمنٹس اپنے افسانے پر لگانا۔ پھر کچھ تبصرے مخالفت اور کچھ حمایت میں۔ تنازعہ جتنا بڑھے گا ..
اتنی ہی زیادہ پبلسٹی۔ چند روز بعد کسی دوسرے فورم پہ جاکر گزشتہ فورم، اس کے ایڈمن اور اراکین میں کیڑے نکالنا، یہی کامیابی کا راز ہے۔‘  کبھی اپنی غلطی نہ ماننا، دوسروں کو غلط ثابت کرنا۔ کوئی زیادہ آئیں بائیں کرے تو اسے بلاک یا ان فرینڈ کرنا۔ کامیابی تمہارے قدم چومے گی ’ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا ” کم سے کم فیس بک کی حد تک“ اس کے جملے کا آخری حصہ اتنے دھیمے لہجے میں تھا کہ میں بمشکل سن سکا ۔میں حیرت سے دانشور کو دیکھ رہا تھا۔۔ اس نے سگار کی راکھ ایش ٹرے میں جھاڑی اور اپنا بیگ بغل میں دبا کر روانہ ہوگیا۔
میں اب فیس بک پر بیٹھا نئی نئی آئی ڈیز بنا رہا ہوں۔
_نقل و چسپاں_

No comments:

Post a Comment