کهلانے_والا_کون ؟
ایک نشئی نے مجھ سے ہیروئین کے لیے پیسے مانگے۔۔۔ میں نے کہا میں تجھے کھانا کھلاتا ہوں مگر ہیروئین کے پیسے نہیں دوں گا۔۔۔۔ اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے تم بس ہیروئین کے لیے کچھ دو۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس کو چند روپے دے دیے
۔ جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا جو آج بھی مجھے یاد ہے۔۔۔۔۔۔
ایک نشئی نے مجھ سے ہیروئین کے لیے پیسے مانگے۔۔۔ میں نے کہا میں تجھے کھانا کھلاتا ہوں مگر ہیروئین کے پیسے نہیں دوں گا۔۔۔۔ اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے تم بس ہیروئین کے لیے کچھ دو۔۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس کو چند روپے دے دیے
۔ جب وہ چلا گیا تو میں اسے دیکھنے لگا کہ یہ کہا جاتا ہے اور کیا کرتا ہے
۔ قریب میں کہیں شادی کا پروگرام تھا۔۔۔۔۔لوگ کھانے کے برتن ادھر سے ادھر لے کے جارہے تھے۔۔۔۔۔ ایسے میں ایک آدمی کے ہاتھ سے ایک برتن چھوٹ کے گر گیا
۔ اس نے اپنا برتن اٹھایا اور چل دیا۔۔۔۔ وہ نشئی اسی چاول کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے لگ گیا۔۔ جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا جو آج بھی مجھے یاد ہے۔۔۔۔۔۔
کہا۔۔۔:
اس کے ساتھ تعلقات آج کل کچھ خراب ہیں ورنہ برتن میں بھی دے
سکتا تھا۔۔۔۔۔

No comments:
Post a Comment