ایک مرتبہ نبی کریم صحابہ کے ہمراہ جہاد سےتشریف لارہے تھے.
کہ دیر ہوگی رات کے وقت آپ نے حضرت بلال کو فرمایا کہ آپ پہرہ دیں
اور پھر فجر کی نماز کے لیے سب کو جگا دیں۔
. سب حضرات آرام فرمانے لگےاور حضرت بلال پہرہ دینے لگے۔
پہرہ دیتے دیتے حضرت بلال نے ایک جگہ ٹیک لگائی تو اللہ تعالی نے ان پر نیند مسلط کی.
حتی کہ سورج طلوع ہوگیا .
اس میں بھی اللہ کی حکمت پوشیدہ تھی جب سورج کی شعاعیں نے نبی کریم کے رخسار مبارک کے بوسے لیے
تو آپ بیدار ہوۓ آپ نے سیدنا بلال سے فرمایا : " بلال ! خود بھی سوۓ رہے
اور ہمیں بھی نہیں جگایا" سیدنا بلال نے عرض کی : "
یا رسول اللہ جس زات نے آپ کو سلا دیا اس زات نے مجھے بھی سلا دیا تھا ۔
نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک نے ہم پہ نیند اسلیئے طاری کردی
کہ یہ نماز قضا ہو اور تم لوگوں کے سامنے قضاء نمازکا مسئلہ حل ہوجاے.
ماشاء اللہ جس نبی کا سونا امت کے لیے رحمت ہو اسکا جاگنا امت کے لیے کتنی بڑی رحمت ہوگی ...........
No comments:
Post a Comment