HD

Friday, 16 September 2016

عورت کی عزت و عصمت کا تحفظ ہے

پچھلے دنوں "ایکسپریس نیوز" پہ ایک پروگرام نشر ہوا "بدل" کے نام سے۔۔۔ پروگرام کا موضوع "عید کی شاپنگ کرنے کے لئے بازار 

آئی ہوئی عورتوں کی چھیڑ چھاڑ "سے متعلق تھا انہوں نے اپنی ٹیم کی ایک لڑکی کے گلے میں خفیہ کیمرا لگا گر اسے بازاروں میں 

گھومنے کے لئے بھیجا

تا کہ وہ لوگوں کی چھیڑ چھاڑ کوریکارڈ کر سکیں، اس لڑکی کا لباس بھی بہت "روشن خیال ''تھا۔

۔ 
خیر وہ لڑکی بازار میں گھومتی رہی اور لڑکے اس سے ٹکراتے رہے اور چھیڑ خوانی کرتے رہے، دکانداروں سمیت ہر گزرتے شخص نے 

اس لڑکی کا "تفصیلی" معائنہ کیا اور یہ سب کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوتا رہا،
حتی کہ ایک منچلے نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت بھی دے دی۔۔۔۔ 

المختصر یہ کہ میڈیا والوں کا مقصد " حوا کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ان مظالم کو آشکار کرنا اور ڈھنڈورہ پیٹنا تھا۔۔۔
میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر وہ لوگ اسی لڑکی کو باپردہ بنا کر اسے بازار میں گھوماتے اور ساتھ خفیہ کیمرا لگاتے تو نتیجہ اس کے برعکس ہوتا
اسی ویڈیو میں ہر عقلمند عورت کے لئے عبرت بھی تھی،
اگر عورت تنگ لباس،کھلے گلے والی قمیص اور سر سے دوپٹہ اتار کر (جیسا کہ اس لڑکی کا لباس تھا) بازاروں مارکیٹوں میں گھومے گی 

تو پھر اس کے ساتھ ایسے واقعات ہونا انہونی بات نہیں،،
،پھر ہر چلتی نگاہ اسی کی طرف اٹھے گی اور ہر گزرنے والا 
اس کے سراپے کا ضرور جائزہ لے گا اور اس کی اس حالت سے ہوس پرستوں کو مزید شے ملے گی

اور وہ اس کو چھونے سے بھی گریز نہیں کریں گے،،
اگر "حوا کی بیٹی'' اپنی عزت و عصمت چاہتی ہے تو اسے خود کو سنبھالنا ہوگا 
اپنے لباس اور اپنے چال چلن کو درست کرنا ہوگا، 
اپنے رب کے دیے ہوئے قانون کو فالو کرنا ہوگا اسی میں عورت کی عزت و عصمت کا تحفظ ہے۔۔۔

حتی کہ ایک منچلے نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت بھی دے دی۔۔۔۔ 
المختصر یہ کہ میڈیا والوں کا مقصد " حوا کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ان مظالم کو آشکار کرنا اور ڈھنڈورہ پیٹنا تھا۔۔۔
میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر وہ لوگ اسی لڑکی کو باپردہ بنا کر اسے بازار میں گھوماتے اور ساتھ خفیہ کیمرا لگاتے تو نتیجہ اس کے 

برعکس ہوتا
اسی ویڈیو میں ہر عقلمند عورت کے لئے عبرت بھی تھی،
اگر عورت تنگ لباس،کھلے گلے والی قمیص اور سر سے دوپٹہ اتار کر (جیسا کہ اس لڑکی کا لباس تھا) بازاروں مارکیٹوں میں گھومے گی 

تو پھر اس کے ساتھ ایسے واقعات ہونا انہونی بات نہیں،،
،پھر ہر چلتی نگاہ اسی کی طرف اٹھے گی اور ہر گزرنے والا 
اس کے سراپے کا ضرور جائزہ لے گا اور اس کی اس حالت سے ہوس پرستوں کو مزید شے ملے گی
اور وہ اس کو چھونے سے بھی گریز نہیں کریں گے،،

اگر "حوا کی بیٹی'' اپنی عزت و عصمت چاہتی ہے تو اسے خود کو سنبھالنا ہوگا 
اپنے لباس اور اپنے چال چلن کو درست کرنا ہوگا، 
اپنے رب کے دیے ہوئے قانون کو فالو کرنا ہوگا اسی میں عورت کی عزت و عصمت کا تحفظ ہے۔۔۔

No comments:

Post a Comment